istanbul escort escort bayan escort istanbul istanbul escort yalıkavak
Home / Urdu Columns / یہ کہاں آگئے ہم

یہ کہاں آگئے ہم

پارا چنارسے کوئٹہ اور کراچی تک دہشت گردی کے واقعات نے ایک بار پھر سارے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ واقعات کی سنگینی کے پیش نظر پاک فوج کی قیادت کا اعلیٰ سطح کا سکیورٹی اجلاس طلب کیا گیا۔ اس موقع پر بریفنگ دی گئی کہ دہشتگردی کے حالیہ واقعات افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کی ملی بھگت کا شاخسانہ ہیں۔ خیر اس میں تو کوئی راز کی بات نہیں۔ اس اجلاس کی سب سے اہم بات آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا اظہار خیال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نائن الیون کے بعد سب سے زیادہ دہشت گردی کا سامنا پاکستان نے کیا اور اس مصیبت کے خاتمے کیلئے اپنی بساط سے بڑھ کر کردار ادا کیا مگر ہماری قربانیوں کا اعتراف کرنے کے بجائے ہم ہی سے ’’ڈومور‘‘ کا مطالبہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ دیگر سٹیک ہولڈرز خصوصاً افغانستان دہشت گردی کے خلاف مزید اقدامات کرے۔ آرمی چیف کی باتیں سو فیصد درست ہیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں نام لیے بغیر امریکہ کا بھی ذکر کیا۔ یقیناًپاکستان کو دہشت گردی کے خلاف کئی آپریشن کرنے کے باوجود تاحال اس عفریت سے پوری طرح چھٹکارا نہیں مل سکا مگر زمینی حقائق یہ ہیں کہ افغانستان سے ایسی ’’نیکی‘‘ کی امید رکھنا خود کودھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ہماری سرحدی صورت حال اس قدر پیچیدہ ہو چکی ہے کہ اب بھارت ہی نہیں چین کے سوا تمام پڑوسی ممالک ’’دانت پیستے‘‘ نظر آرہے ہیں۔ ان سطور میں پہلے بھی عرض کیا جا چکا ہے کہ ہر بدخواہ کو اپنی اپنی تکلیف ضرور ہے مگر سب کا مشترکہ ہدف ’’سی پیک‘‘ ہے۔ آجکل ملک کے اندر جو تماشا چل رہا ہے اس کا بنیادی مقصد بھی افراتفری پیدا کر کے پاکستان کو ترقی ہی نہیں بلکہ سالمیت کی پٹڑی سے بھی اتارنا ہے۔ اس صورت حال کو بھانپتے ہوئے چینی وزیر خارجہ نے اسلام آباد آکر پاک افغان سرحدی اور سفارتی کشیدگی کم کرنے کیلئے دونوں ممالک کی قیادت کے مشترکہ اجلاس کی میزبانی کی پیشکش کی،اللہ اللہ !پاکستان پر یہ وقت بھی آنا تھا کہ افغانستان جیسے ملک سے معاملات طے کرانے کیلئے چین جیسی عالمی قوت کو کردار ادا کرنے کی پیشکش کرنا پڑی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایٹمی پاکستان کو اس سطح پر پہنچانے کی تمام تر ذمہ داری انہی عناصر پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے خارجہ پالیسی سمیت ہر معاملے کو ہائی جیک کررکھا ہے۔ چین بھی شاید اس معاملے میں فوری مداخلت نہ کرتا مگر وہ بھی کیا کرے اس کے کھربوں ڈالر کے مفادات پاک چین اقتصادی راہداری سے وابستہ ہیں۔ اسی لیے چینی وزیر خارجہ نے کھل کر کہا کہ پچھلے چند سالوں کے دوران پاکستان نے جو سیاسی استحکام حاصل کیا ہے اس سلسلے کو جاری رہنا چاہیے اور یہ کہ خطے میں کشیدگی معاشی ترقی کیلئے زہرقاتل ہے۔ چینی وزیر خارجہ نے اپنے دورے کے دوران آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے واضح پیغام دیا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی سرحدی کشیدگی اور غلط فہمیاں جو صورت حال پیدا کررہی ہیں اس سے خطے میں جاری ترقی کے ایجنڈے کو بھی خطرات لاحق ہورہے ہیں۔ یہ بات کسی کو فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ چین پاکستان کا حقیقی دوست ضرور ہے مگر علاقائی اور عالمی سطح پر خودمختار ملک کی طرح اس کے اپنے بھی مفادات ہیں۔ یہ کہیں نہیں لکھا کہ وہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی ہر پالیسی کی توثیق کرتا رہے گا۔ڈان لیکس والی رپورٹ میں سیکرٹری خارجہ اعزاز چودھری کے دورہ چین کی رودادانہی کی زبانی بیان کی گئی تھی۔ اعلیٰ ترین سول و فوجی قیادت کو واضح طور پر بتا دیا گیا کہ چینی حکومت مولانا مسعود اظہر سمیت بعض دیگر ایسے معاملات میں اب بھی اقوام متحدہ میں پاکستان کے موقف کی تائید کرنے پر تیار ہے مگر ساتھ ہی یہ پیغام بھی دیا گیا کہ آخر کب تک ایسا کیا جاتا رہے اور ایسا کرنے کی کوئی لاجک(منطق) ہے کیا؟ سو بہتر ہو گا کہ نئے حالات میں نئی اور تبدیل شدہ پالیسیاں اختیار کی جائیں، یہ الگ بات ہے کہ ڈان لیکس کا سارا معاملہ سول ملٹری کشمکش کے روایتی کھیل کی نذر کر دیا گیا مگر اس میں سیکھنے کو بہت کچھ ہے۔ سکیورٹی لیکس کا الزام لگا کرمعاملے کو حد سے زیادہ بڑھانے کا سبب بننے والی اس رپورٹ کے حوالے سے اخبار کی انتظامیہ کا بھی یہ دعویٰ ہے کہ جو چھاپا وہ سوچ سمجھ کرچھاپا ورنہ ان کے پاس تو ان اجلاسوں کے پورے میٹنگ منٹس موجود ہیں جن میں واقعی چند چیزیں ایسی ہیں جو سکیورٹی لیکس کے زمرے میں آتی ہیں، اچھا ہی ہوا کہ رپورٹ پر ہونے والی انکوائری اور اصل مسودہ سامنے نہیں آیا ورنہ کئی طرح کی مشکلات پیدا ہو جاتیں۔
پاکستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے بعد یہ تو ثابت ہو گیا کہ خطرات کے بادل پورے ملک پر منڈلا رہے ہیں۔ممتار دفاعی مبصر کرنل(ر) غلام جیلانی خان نے اپنے ایک کالم میں یہ انکشاف کیا ہے کہ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں دہشتگردوں نے پھر سے اپنے ٹھکانے بنالیے ہیں اور ماضی کی گھناؤنی سازشیں پھر سے بحال ہورہی ہیں، بھاری مقدار میں اسلحہ بھی لایا جارہا ہے۔ ایسے میں کیا سرحدوں پر خاردار باڑ لگانے سے یہ کام رک جائے گا۔
مضمون نگار نے خود ہی اس کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں کے خون میں ہی قتل و خونریزی بسی ہو وہ ان جنگلا بندیوں کی شاید ہی کوئی پروا کریں گے۔ پاک افغان سرحد پر صورت حال تیزی سے دھماکہ خیز ہوتی جارہی ہے تو ایرانی بارڈر پر یکطرفہ طور پر گولہ باری کے اکا دکا واقعات کے بعد اب جوابی کارروائی کا آپشن بھی آگیا ہے۔ پچھلے دنوں پاک فضائیہ کے جے ایف تھنڈر نے اپنی حدود میں گھس آنے والے ایرانی ڈرون کو تباہ کر کے ’’پیغام‘‘ بھیج دیا وہ تو اچھا ہوا کہ بعد میں کسی ایرانی عہدیدار نے دھمکی آمیز بیان دیا اورنہ ہی پاکستانی حکام نے مزید ردعمل کے ذریعے کشیدگی بڑھانے کی کوئی کوشش کی مگر آگے کیا ہو گا؟ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے بارے میں امریکی پالیسی سچ مچ تبدیل ہورہی ہے، بااثر امریکی سینیٹر جان مکین نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ ایران میں نظام کی تبدیلی کا وقت آن پہنچا۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ جس اجلاس میں یہ گفتگو کی گئی اس میں سابق شاہ ایران کے صاحبزادے رضا شاہ پہلوی کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ ایسے میں اگر امریکہ نے اپنی فورسز کے ذریعے خطے میں آکر دباؤ بڑھانے کیلئے مختلف ممالک پر زور ڈالاتو معاملہ مزید پیچیدہ ہوجائے گا۔ سو بہتر پالیسی یہی ہے کہ ایران کے ساتھ صلح صفائی کے عمل کو تیز کرتے ہوئے ہر قسم کی سرحدی کشیدگی سے بچنے کی کوشش کی جائے تاکہ کسی بڑے عالمی تنازع کی صورت میں غیر جانبدار رہ کر قومی مفادات کا تحفظ کیا جاسکے۔ آگے حالات اچھے نظر نہیں آرہے۔ بھارتی فوج نے آخر کس کے بل بوتے پر چینی علاقوں میں دراندازی کی ہے اور مودی کے دورہ امریکہ کے بعد پاکستان کے حوالے سے بھارتی پالیسی میں بدنیتی کا عنصر مزید نمایاں ہو کر سامنے آرہا ہے۔حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر سید صلاح الدین کو عالمی دہشت گرد قرار دے کر ٹرمپ نے مودی کو جو تحفہ دیا ہے اس کی توقع شاید بھارت کا انتہا پسند ہندو وزیراعظم خود بھی نہیں کررہا تھا ۔ قطر، سعودی عرب تنازع کے بعد پاکستان مشرق وسطیٰ میں بھی کوئی متحرک کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں، اسی حوالے سے ثالثی کیلئے کی جانے والی کوششوں کو سعودی حکومت کی سردمہری کے سبب ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
اس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان کا گھیراؤسی پیک اور سسٹم کو لپیٹنے کیلئے کیا جارہا ہے۔ سی پیک میں رکاوٹ آئی تو عظیم ترین معاشی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے گااور وطن عزیز خود انحصاری اور خود کفالت کی منزل کھوٹی کر بیٹھے گا۔ اگر سسٹم کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کے ذریعے پاکستان دشمنوں کی کوشش ہو گی کہ اندرونی حالات زیادہ سے زیادہ خراب کر کے پاکستان میں مداخلت کی راہ ہموار کی جائے جس کا حتمی نشانہ ایٹمی پروگرام ہو گا۔
پورے منظر نامے کو پیش نظر رکھ کر سازش بھانپتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پارا چنارمیں دہشتگردی کے واقعہ کے بعد گمراہ کن مہم چلائے جانے کا بروقت نوٹس لیا ہے۔ سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی اس مہم کے ذریعے وارداتوں کو دانستہ طورپر فرقہ وارانہ منافرت کا رنگ دیا جارہا ہے، مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء سے ملاقات کے دوران آرمی چیف نے کہا کہ دشمن ہمیں دہشتگردی کے ذریعے تقسیم کرنے کی سازش کررہا ہے، اگرچہ اس کو منہ کی کھانا پڑی ہے پھر بھی ہم سب کو اس گمراہ کن مہم سے آگاہ رہنا چاہیے۔آرمی چیف نے ایک سنگین سازش کو بے نقاب کر کے بہت صائب کام کیا ہے مگر یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ ملک میں ایک نہیں کئی ایک سازشیں چل رہی ہیں۔ اب تو یہ راز نہیں رہ گیا کہ سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کی منظم منصوبہ بندی کن عناصر نے کی اور ان کے آلہ کار کون ہیں؟ کیا ہی بہتر ہوتا کہ ہرریاستی ادارے کا سربراہ اپنے اپنے ماتحتوں کو حکم دیتا کہ کسی بھی صورت حدود سے تجاوز نہ کیا جائے کیونکہ اس پرانے کھیل کے سارے ضابطے اب شاید پہلے والے نہیں رہے ۔گیم کھیلنے والے بھی گیم کے نتائج سے خود کو محفوظ نہیں رکھ سکیں گے ،آزمائش شرط ہے تو چلیں آزما کر دیکھ لیں۔اب تک تو یہی لگتا ہے کہ سرحدوں کے پار جاری سرگرمیوں پر نظر رکھنے اور جوابی حکمت عملی تیار کرنے کے بجائے اقتدار کے تمام سٹیک ہولڈر آپس میں گتھم گتھا ہو کر ریاست کو تماشہ بنانے کی جانب بڑھ رہے ہیں لیکن کسی بھی لمحے جوش پر ہوش غالب آگیا تو ساری صورت حال معمول پر آنے میں دیر نہیں لگے گی۔

About Waseem Ahmad

Share your Comments

comments