حکومت نے شہباز شریف کے اوورسیز پاکستانیوں سے متعلق پلان کو مسترد کرتے ہوئے فراڈ قرار د ے دیا

اسلام آباد مشیر قانونی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی جانب سے اوورسیز پاکستانیوں کے حوالے سے دی جانے والی تجویز اور پلان فراڈ ہے ،وزیراعظم عمران خا ن نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کا وعدہ کیا جو انشااللہ ضرو ر پورا ہوگا مگر اس طریقے سے نہیں جس طریقے سے شہباز شریف چاہتے ہیں۔

اسلام آبادمیں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بابر اعوا ن کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت نے ایوان کے اندرجو بھی قانون پیش کیا اپوزیشن نے اس کی تضحیک کی، شہباز شریف یہ چاہتے ہیں کہ چند چنے لوگوں کو پارلیمنٹ میں بٹھایا جائے لیکن آئین کے مطابق بنیادی حقوق سے متصادم قانون سازی نہیں ہوسکتی،اپوزیشن لیڈر کی تجویز آئین سے کھلواڑ کے متراد ف ہے۔

بابر اعوان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کی ضرورت نہیں ان کا حق پہلے موجود ہے اور وہ تسلیم شدہ ہے اور اس پر عمل ہونا چاہئے، آرٹیکل 106کے مطابق پاکستان کا ہر شہری دنیا کے جس حصے میں بھی ہو وہ ووٹ دینے کا حق رکھتا ہے اور ملک کے جس خطے میں اس کا نام درج ہوگا وہاں وہ ووٹ دے گا۔اپوزیشن سودے بازی چھوڑ دے، اگر پوری اسمبلی بھی چاہے کہ سودے بازی کی جائے تو یہ آئین کی خلاف ورزی ہو گی۔ اپوزیشن پتلی گلی نہ ڈھونڈیں پارلیمان کا راستہ اختیا ر کریں، آئین کی توہین نہ کریں ، اووسیز پاکستانیوں کو باہر بیٹھ کر سیٹ نہیں چاہئے۔

ان کا کہنا تھا کہ پارلیمان کو سپریم گردانتے ہوئے حکومت پاکستان کی جانب سے ملکی سلامتی کے حوالے سے پارلیمان لیڈرز کو بریفنگ دی جائے گی جس میں تمام متعلقہ ادارے بریف کریں گے،اپوزیشن نے بجٹ پڑھے اعتراض کیا مگر جب فلور پر آیا تواعتراض کسی نے نہیں کیا بلکہ صرف کٹ موشن لائی گئیں، اپوزیشن کا مقصد گرینڈ این آراو ہے جو کسی صورت نہیں مل سکتا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خا ن اور اسکے اتحادی آئین کی بالادستی چاہتے ہیں ا ور آئین کے مطابق حکومتی ایجنڈے میں جوڈیشل ریفارمز اور لا ریفارمز بھی شامل ہیں، میں سب جماعتوں کو دعوت دیتا ہوں کے ان اصلاحات پر اپنی تجاویز دیں اور قانون سازی میں مدد دیں۔

انہوں نے کہا کہ نوازشریف سزا کے خلاف اپیل مسترد ہونے کے بعدبند گلی میں چلے گئے ہیں ،ان کا علاج کا بہانہ ختم ہوگیا ہے ان کے خلاف فائنل فیصلہ آگیا ہے اورا ب انہیں سرینڈر کرناہو گا جب تک نہیں کریں گے سپریم کورٹ نہیں جا سکیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں