مایوسی کی علامت بنی یہ تصویر تو آپ نے دیکھی ہوگی لیکن یہ دراصل کون ہے ؟ تفصیلات منظر عام پر

کرکٹ ورلڈ کپ 2019ءمیں پاکستان اور آسٹریلیا کے میچ کے دوران جب باﺅنڈری پر کھڑے آصف علی نے آسٹریلوی بلے باز ڈیوڈ وارنر کا نسبتاً آسان کیچ چھوڑ دیا تو صارم اختر آصف علی کے پیچھے چند قدم پر تماشائیوں میں کھڑے تھے۔ آصف علی کی انتہائی ناقص فیلڈنگ پر مایوس صارم علی کچھ یوں حسرت و یاس کی تصویر بنے کھڑے تھے کہ کیمرہ مین نے ان کا عکس اپنے کیمرے میں محفوظ کر لیا۔ اس تصویر میں صارم اختر کے حسرت، مایوسی اور افسردگی کے ملے جلے جذبات لوگوں کو ایسے بھائے کہ یہ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی اور بالآخر ایک ’میم‘ کی شکل اختیار کر گئی۔ آج جب بھی کوئی مایوسی اور افسردگی کا موقع ہوتا ہے تو انٹرنیٹ صارف اس تصویر کو بطور میم استعمال کرتے ہیں۔ صارم اختر اس ایک تصویر کی وجہ سے راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے۔

ان کا کہنا ہے کہ ”مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ میں راتوں رات اتنا مشہور ہو جاﺅں گا۔ میں تو میچ میں پاکستان کی شکست کو یقینی دیکھتے ہوئے افسردگی کے عالم میں کھڑا تھا۔ مجھے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ کہ میں کیمرہ مین کی نظروں میں آ چکا ہوں اور وہ میرے اس لمحات کو اپنے کیمرے میں محفوظ کر چکا ہے۔میں لندن کا رہائشی ہوں اور تین گھنٹے کا سفر کرکے میچ دیکھنے پہنچا تھا۔ اسی رات میں یہ تصویر وائرل ہو گئی اور میرا نام بھی کسی طرح لیک ہو گیا۔ چنانچہ فیس بک پر مجھے سینکڑوں فرینڈریکوئسٹس آنے لگیں اور اس رات میرا فون تمام رات بجتا رہا۔ مجھے یوگنڈا، بوٹسوانا، ملائیشیاءاور انڈونیشیاءسمیت ایسے ممالک سے بھی فرینڈ ریکوئسٹس آ رہی تھیں کہ جن کا میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ کچھ فون کالز میں بہت مضحکہ خیز سوالات بھی کیے گئے۔ مثال کے طور پر یورپ سے ایک آدمی نے مجھے فون کیا اور کہا کہ ”کیا میں آپ کی اس تصویر کو اپنے کریڈٹ کارڈ پر لگا سکتا ہوں؟ شاید تمہاری تصویر ہی مجھے کریڈٹ کارڈ کا زیادہ استعمال کرنے سے روک سکے۔“

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں