عراقی حزب اللہ بریگیڈز کی عراق میں موجود امریکیوں کے خلاف کارروائی کی دھمکی

عراق میں موجود حزب اللہ بریگیڈز نے عراق میں امریکیوں کی موجودگی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اچانک حملوں کی دھمکی دے ڈالی ۔

العربیہ نیوز کے مطابق عراقی حزب اللہ بریگیڈز کے سرکاری ترجمان محیی محمد نے کہا کہ عراق میں امریکیوں کی موجودگی غیر قانونی ہے ، جن کے خلاف اچانک کارروائی کی جائے گی ۔ ہمارا مقصد عراق اور شام میں امریکیوں کے خلاف مزاحمت کے علاوہ داعش اور اسرائیل کے خطرات سے بھی نمٹنا ہے، اس لئے ہمارے جیسے گروپوں کو راکٹوں اور ڈرون طیارون جیسے ہتھیاروں کا حصول یقینی بنانا ہوگا۔

عرب جریدے کے مطابق اس سے قبل النجباءموومنٹ کا سرکاری ترجمان اس حوالے سے مہلت پیش کرنے کی بات کر چکا ہے ، اس مہلت کا مطالبہ امریکا کی جانب سے کیاگیا تھا تاکہ وہ اپنی فورسز کے انخلا کا عمل مکمل کر لے ۔

واضح رہے کہ ایران امریکا کے ان الزامات کی تردید کر چکا ہے جن میں کہا گیا کہ تہران عراق اور شام میں امریکی فورسز پر حملوں کیلئے مسلح گروپوں کو سپورٹ کر رہا ہے ۔

ایران کی جانب سے اقوام متحدہ میں بھی کہا گیا کہ عراق میں امریکی اہلکاروں یا تنصیبات کے خلاف کسی بھی حملے کو ایران سے منسوب کرنے کا کوئی بھی دعویٰ غلط ہے ، اس میں رتی برابر بھی سچائی نہیں ۔

ادھر افغان طالبان بھی غیر ملکی افواج کو مقررہ تاریخ تک ملک سے نہ نکلنے کی صورت میں بھرپور رد عمل دینے کی دھمکی دے چکے ہیں ، افغان طالبان کے ترجمان نے واضح کر دیا کہ تمام غیر ملکی فوجیوں کو مقررہ تاریخ تک افغانستان کو چھوڑ کر جانا ہوگا ورنہ طالبان بھرپور رد عمل دیں گے ۔

قطر میں طالبان سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انخلاءکے بعد فوجی کنٹریکٹر سمیت غیر ملکی افواج کو افغانستان میں نہیں رہنا چاہئے ، دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی تو کیسے آگے بڑھنا ہے اس کا فیصلہ طالبان قیادت گی ۔ہم سفارتخانوں، این جی اوز اور ان میں کام کرنے والوں کے لئے کوئی خطرہ نہیں بنیں گے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں