شہریوں کے مسائل کے حل کے لیے پنجاب پولیس نے بھی سوشل میڈیا کا سہارا لے لیا

انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب انعام غنی نے فیس بک کے لائیو سیشن پر شہریوں کے سوالات کے براہِ راست جوابات دئیے۔

تفصیلات کے مطابق انعام غنی نے فیس بک کے لائیو سیشن کے دوران شہریوں کے مختلف سوالات کے جوابات دئیے۔ پولیس ریفارمزکے حوالے سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پولیس ریفارمز کا مطلب نئی قانون سازی یا نئے پولیس آرڈر کی تشکیل ہرگز نہیں بلکہ سروس ڈلیوری میں بہتری کیلئے کانسٹیبل سے لے کر آئی جی تک پورا کا پورا سسٹم اپنے آپ کو ریفارم کرے تب ہی ریفارمز حقیقی معنوں میں رونما ہوسکتی ہیں۔ شہریوں کو خدمات کی باآسانی فراہمی کیلئے پنجاب پولیس اپنے آپ کو خود ریفارم کر رہی ہے جس کے تحت ایف آئی آر کے فری اندراج، آپریشنز کے ساتھ ساتھ انویسٹی گیشن کی جانب فوکس، تھانوں کے امور میں بہتری کیلئے ترجیحی بنیادوں پر وسائل کی فراہمی، مختلف کیسز میں انڈر ٹرائیل افسران واہلکاروں کی فیلڈ پوسٹنگ سے علیحدگی، سٹیزن سینٹرک پولیسنگ کا فروغ اورمنشیات کے استعمال میں ملوث افسران واہلکاروں کے خلاف بلا امتیاز کاروائیاں جاری ہیں۔اصلاحات ایک مسلسل عمل ہے جو پلک جھپکنے میں کسی صورت حاصل نہیں کیا جاسکتا پنجاب پولیس کو ریفارم کرنے کیلئے روڈ میپ تشکیل دے کر صدق دل سے کاوشوں کا آغاز کردیا گیاہے جس کے نتائج بہت جلد اور واضح بہتری کی صورت عوام تک پہنچا شروع ہورہے ہیں۔

آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ گذشتہ دس ماہ میں بطور آئی جی پولیس ریفارمز کیلئے صدق دل سے کاوشیں کی ہیں اور انشاء اللہ آئندہ بھی اس حوالے سے اقدامات جاری رہیں گے۔ پنجاب پولیس میں افسران کی پوسٹنگ ٹرانسفر میں کسی قسم کی سیاسی مداخلت یا سفارش نہیں پائی جاتی اور تمام افسران کی تقرریاں 100فیصد میرٹ کے مطابق کررہے ہیں۔ افسران کے کیرئیر پروفائل کے مطابق مختلف عہدوں پر انکی تقرریاں کی جاتی ہیں اور فیلڈ پوسٹوں پرقابل اور پروفیشنل افسران کو تعینات کیا جاتاہے تاکہ وہ سپروائزری رول بہتر طور پر ادا کرتے ہوئے فورس کی کمانڈ و راہنمائی کرسکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں